فیک نیوزپہونچاننے کے چھ اہم اصول

منورسلطان ندوی
استاذدارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

ڈیجیٹل میڈیا نے دنیا کو ایک نئے انقلاب سے روشناس کرایا،اس عہدکی سب سے خاص بات معلومات کی بہتات ہے،ایک کلک پر ہزاروں نہیں لاکھوں نتائج سکینڈوں میں دستیاب ہوتی ہیں،معلومات کی کثرت کی جہاں افادیت مسلم ہے وہیں اس کابڑانقصان یہ ہے کہ معلومات کی بھیڑمیں حقیقت گم سی ہوجاتی ہے،صحیح اور غلط میں امتیازدھندلاہوجاتاہے،فریب ،ملمع سازی اورتدلیس وتلبیس کے ذریعہ حقائق کو مسخ کرنے کے مواقع بے تحاشابڑھ جاتے ہیں،جس کے نتیجہ میں سادہ ذہنوں کو شکاربنانے والوں کے لئے یہ ایسانسخہ کیماثابت ہورہاہے کہ شیطان بھی اپنی حرکتوں پر پشیماں ہوگا،رہی سی کسر مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹکنالوجی نے پوری کردی۔
فیک نیوزدراصل پروپیگنڈہ ،زردصحافت اورپیڈنیوزکی ایک ترقی یافتہ شکل ہے،فیک نیوزمیں وہ تمام موادشامل ہوتاہے جوحقیقت واقعہ کے خلاف ہو یاکسی خاص مقصد کے تحت پھیلائی جائے،فیک نیوزکامقصد قاری اور صارف کو گمراہ کرنا،حقیقت کو مشتبہ بناناہوتاہے۔
سوشل میڈیاکے بے لگام استعمال اور ہرخبرکوقبول کرنے کے مزاج کے نتیجہ میں فیک نیوزکوپھلنے پھولنے کاخوب موقع مل رہاہے،ڈیجیٹل میڈیاکے لئے ضوابط کی کمی یااس بارے میں بیداری کانہ ہونابھی فیک نیوزکے فروغ میںاہم کرداراداکرکرہاہے،اسی طرح بریکنگ نیوزکلچراور سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ذہنوں کو مصروف رکھنے یاصحیح نتائج تک پہونچنے سے روکناجیسے عوامل بھی اس معاملہ میں بہت موثرہیں۔
اس تناظرمیں یہ سوال ذہن میں فطری ہے کہ اس مسئلہ کاحل کیاہے؟سچائی کے علمبرداراور ذمہ دارصحافت سے وابستہ صحافیوں نے اپنی فنی ذمہ داری اداکرتے ہوئے فیک نیوزکی تحقیق وتفتیش کے لئے مستقل صحافتی اداروں کے قیام کی شکل میں اپناکام شروع کردیاہے،معروف نیوزایجنسی بی بی سی جیسے صحافتی ادارہ اور محمد زبیر(شریک بانی آلٹ نیوز)نے بھی اس راہ میں اقدام کرکے یہ پیغام دے دیاہے کہ یہ مسئلہ کتنااہم ہے،فیک نیوزکی روک تھام کے حوالے سے یہ اقدامات یقینا سنگ میل ثابت ہوں گے،مگرسوالاکھ کاسوال پھربھی باقی رہے گاکہ ان جیسے معروف وموقراداروں تک کتنے افراد پہونچتے ہیں؟اس لئے فیک نیوزکے سلسلے میں سب سے اہم مسئلہ عمومی بیداری ہے،سماج کے باشعورافراداس جانب توجہ دیں اور عوامی سطح پر بیداری لانے کی کوشش کریں تبھی کسی تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
فیک نیوزکوجاننے کے لئے ماہرین نے کچھ اصول بتائے ہیں،ان اصولوں کوسمجھنے اور ان کااستعمال کرنے سے خبروں کے حوالے سے تحقیق کامزاج پروان چڑھے گا،اور اس طرح فیک نیوزکوروکنے کاعمل شروع ہوسکے گا۔
فیک نیوزکی شناخت کیسے کریں:
۱۔خبرپڑھنے سے پہلے اس خبرکے ذریعہ اور سورس کو دیکھناضروری ہے،کسی معتبرنیوزایجنسی یامعتبرصحافتی پلیٹ فارم کے حوالہ سے خبرآئی ہے تبھی اس خبرکی صداقت معتبرہوگی،فیک نیوزکاکوئی سورس نہیں ہوتایامعتبرسورس نہیں ہوتااوریہی اس خبرکی صداقت کو مشکوک قراردیتی ہے۔
پرنٹ میڈیامیں عموماخبروں کامآخذ(سورس) ذکرکیاجاتاہے،اس لئےیہاںمعاملہ نسبتا آسان ہے،لیکن الیکٹرانک میڈیااور ڈیجیٹل میڈیا میں سورس کاذکراس اندازسے نہیں ہوتا،البتہ وہاں بھی خبرکے بنیادی عناصراور خبرکہاں سے ملی ہے؟اس کاذکرہوتاہے،ان چیزوں کودیکھناضروری ہے۔
۲۔الیکٹرانک میڈیااور ڈیجیٹل میڈیامیں خبرپیش کرنے کے لئے کافی وقت ہوتاہے،اس لئے یہاں خبرکے ساتھ اوپینین یعنی رائے بھی کثرت سے شامل نظرآتی ہے،میڈیاکاکام یہ ہے کہ جوواقعہ جس طرح پیش آیاہے اس کو اسی طرح پیش کیاجائے،مگرموجودہ میڈیامیں ادارہ یاصحافی کی جانب سے دانستہ طورپر امکان اوراندیشوں پر تفصیلی گفتگوکی جاتی ہے،اور اس طرح خبروں کو مطلوبہ رخ دینے کی کوشش کی جاتی ہے،یہ بات صحافتی اخلاقیات کے بالکل خلاف ہے،لہذااس صورت میں قاری یاصارف کوچاہئے کہ خبراور رائے میں فرق کریں۔
۳۔خبروں میں سرخی یعنی ہیڈلائن کامسئلہ بہت اہم ہوتاہے،موجودہ وقت میں ہیڈلائن کے ذریعہ ہی ساراکھیل ہوتاہے،ہیڈلائن کواس طرح جذباتی اندازمیں لگایاجاتاہے کہ نہ صرف توجہ کوکھنیج لے،بلکہ ایک بارکلک کراکے ہی دم لے،موجودہ میڈیاکایہ بہت بڑامسئلہ ہے،خبراور سرخی میں مطابقت ضروری ہے،اور پھرسرخی لگانے کے لئے کچھ اصول وآداب ہیں،اس لئے سرخی اور خبرمیں مطابق ضرور تلاش کریں،اور دونوںمیں فرق ہے تواس کاسیدھامطلب ہے کہ وہ خبرفیک ہوسکتی ہے۔
۴۔ڈجیٹل میڈیامیں خبروں کو تاریخ اور وقت سے ہٹاکرپیش کرنے کاعام رواج ہوچکاہے،واقعہ کسی علاقہ ہے اور اس کو کسی دوسرے علاقے یاافرادسے جوڑکردکھایاجارہاہے،اس لئے خبرپڑھتے یادیکھتے وقت اس کالحاظ بھی ضرورکریں کہ خبرکی تاریخ اور جگہ صحیح ہے یااس کو ادھر ادھرجوڑنے کی کوشش کی گی ہے۔
۵۔خبروں کی دنیامیں تصاویرکابہ بڑاکردارہوتاہے، کسی خبرکے ساتھ اس سے متعلق تصویربھی ہوتووہ تصویراس خبرکی سچائی کی علامت سمجھی جاتی ہے،یہی حال ویڈیوکابھی ہے،مگرموجودہ وقت میں تصویراورویڈیومیں اپنی پسندکے مطابق تبدیلی کرنابہت آسان ہوگیاہے،اس لئے خبرسے ساتھ تصویراور ویڈیوکوبھی چیک کرناضروری ہے،موجودہ وقت میںمختلف پلیٹ فارم پرتصویرکوچیک کرنے کی سہولت دستیاب ہے،خاص طورپرگوگل پرGoogle Reverse Imageٹول سے فائدہ اٹھایاجاناچاہئے۔
۶۔خبرکامطلب خبرہے،مگرموجودہ وقت میں انتقال کی خبربھی مرچ مصالحہ کے ساتھ پیش کرنے یااس میں بھی کوئی اینگل تلاش کرنے کامزاج عام ہے،اس صورت حال میں اس جانب توجہ دیناضروری ہے کہ خبروں میںجذباتیت کاعنصرتونہیں ہے،جذباتی خبریں عموما فیک ہوتی ہیں او رخاص مقاصد کے لئے تیارکی جاتی ہیں۔
بہرحال اصل مسئلہ بیداری ہے،ڈیجیٹل بیداری بہت ضروری ہے،تعلیم ڈیجیٹل ہوگئی،معاشی سرگرمیاں ڈجیٹل ہوگئیں،لیکن عام شہری ڈیجیٹل فریب کی راہوں سے واقف نہیں ہیں،جس کانقصان یہ ہے کہ سائبرکرائم بڑھتے جارہے ہیں،اقوام متحدہ (UN) کی رپورٹس کے مطابق، دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی میں ڈیجیٹل لٹریسی کی کمی ہے، جس کی وجہ سے وہ آسانی سے فیک نیوز کا شکار بن جاتی ہے۔
فیک نیوزکامعاملہ اتناسنگین ہوچکاہے کہ اصل اور جعلی میں فرق ہی ختم ہوگیا،بسااوقات جعلی خبریں زیادہ حقیقی محسوس ہونے لگتی ہیں،اسی صورت حال کودیکھ کر نوبل انعام یافتہ ماریا ریسا (Maria Ressa) نے کہا تھا کہ:”سچ کے بغیر آپ کو بھروسہ نہیں مل سکتا، اور بھروسے کے بغیر ہمارے پاس کوئی مشترکہ حقیقت نہیں ہو سکتی۔
سوشل میڈیاکے صارفین جب تک اپنے مزاج میں تبدیلی پیدانہیںکریں گے تب تک فیک نیوزکامعاملہ حل نہیں ہوگا،موجودہ وقت کامحتاط رویہ یہی ہوناچاہے کہ ہرسوشل میڈیاپرآنے والی ہرپوسٹ کو مشکوک اور مشتبہ سمجھاجائے،اور جب تک ذاتی طورپراس کی تصدیق نہ ہواس کو آگے شیئرنہ کیاجائے۔
مسلمانوں کے لئے یہ مسئلہ دینی لحاظ سے بھی اہم ہے ،اسلام میں سچ بولنے کی تاکیدکی گئی ہے اورجھوٹ کی سخت مذمت کی گئی ہے،دوسروں کے کردارکشی کوگناہ قراردیاگیاہے،اور بلاتصدیق کسی بات کو نقل کرنابھی گناہ ہے،اس تناظرمیں اپنے رویہ کاجائزہ لیناچاہئے اور خبروںکوآگے بڑھانے سے پہلے ایک بارضرورسوچناچاہئے کہ ہمارایہ عمل ہمارے گناہوں میں اضافہ تونہیں کررہاہے،ایک پوسٹ کوفاروارڈکرکے ہم بھی اس گناہ میں شامل تونہیں ہورہے ہیں۔

Add a Comment

Your email address will not be published.