عورت کی خودمختاری ۔غوروفکرکے چندپہلو
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گذشتہ دنوں دبئی میں ایک کانفرنس کاانعقاد ہوا،جس کو ’’اماراتی وومن کانفرنس 2025‘‘کانام دیاگیا،یہ کانفرنس اماراتی خواتین کی ذہانت،اور کردار کے حوالے سے تقاریر،ڈسکشن اور ایوارڈ پرمشتمل تھی،خواتین کوسماج میں مقام دلانے اور مرد کے شابہ بہ شانے لانے کے لئے اس طرح کی کانفرنسیں اکثرہوتی رہتی ہیں، اس طرح کی کانفرنسوں کامقصد خواتین کی آزادی، اورسماجی ومعاشی اعتبار سے ان کوخودمختاربنانے کی دعوت دیناہوتاہے۔
عورت کی خودمختاری (Women Empowerment)کاموضوع نیانہیں ہے،یہ ایک علمی وفکری موضوع ہے،اور ایک سماجی مسئلہ بھی ،ساتھ ہی ایک معاشرتی چیلنج بھی،ان پہلوئوں کے ساتھ یہ ایک خوبصورت اور پرفریب نعرہ بھی ہے،اس سے متعلق چند اہم پہلوئوں پر سنجیدگی سے غورکرنا ضروری ہے۔
خودمختاری کامطلب ہے کہ عورت کواپنی ذاتی زندگی،اور اپنے معاملات میں فیصلہ کامکمل اختیارہو،وہ اپنے معاملات میں کسی کے تابع نہ رہے،دراصل اس سے مقصود مردوعورت کی صنفی برابری ہے ،تاکہ عورت مردکے شابہ بہ شانہ چل سکے،عورت اپنے فیصلوں میں بااختیارہوگی تووہ سماجی اور معاشی میدان میں بہترین کرداراداکرے گی،اور اس طرح سماج اور ملک کی ترقی زیادہ ہوگی۔
مغرب میں فیمنزم کی جومختلف لہریں اٹھیں انہیں میں عورت کی آزادی کاتصوربھی ہے،جوپہلے ذہنی وفکری آزادی اور قانونی مساوات تک محدودتھا،بعد میں تمام سماجی ومذہبی حدودسے آزادی اس اس میں شامل ہوگئی۔
مغرب کا تصورایک ردعمل کے طورپرابھرا،وہاں کامعاشرہ جن حالات سے دوچارتھا،اور کلیساکی زنجیروں میں وہ جس طرح جکڑے ہوئے تھے اس پس منظر میں فیمینزم کی تحریک اٹھی، جس نے مذہبی اور سماجی پابندیوں کے خلاف بغاوت کی اور عورت کو آزادی دلانے کی کوشش کی ۔
آزادی نسواں کی تحریک کے نتیجہ میں مغرب کلیساکی زنجیرسے آزادضرور ہوگیا،مگراس آزادی کی جوقیمت چکانی پڑی وہ جگ ظاہرہے،سماجی ومعاشرتی نظام کابکھرائو،معاشی آزادی کے نام پرعورت پراپنی اور اپنے بچوں کی معاشی ذمہ داریاں، مرد وعورت میں مسابقت اور کشمکش،جنسی آزادی کے نام پراخلاقی انارکی،ناجائزبچوں اور بغیر باپ کے بچوں کی بہتات،سماجی رشتوں کے کمزورہونے کے نتیجہ میں تنہائی،ڈپریشن،اور ذہنی دبائو میں بے تحاشہ اضافہ،اکیلی ماں (Single Parenting) کے نتیجہ میں سماجی مسائل اسی تحریک کے غیرمعتدل اور غیرفطری سرگرمیوں کاخمیازہ ہے۔
اسلام نے روزاول سے عورت کوعزت دی ،اوراس کواس کاصحیح مقام عطاکیا،قرآن واحادیث میں تفصیلات موجود ہیں کہ عورت کو کس کس طرح کے حقوق دئے گئے ہیں،اورکس طرح انہیں خودمختارعطاکی گئی ہے۔
زندگی کے زیادہ ترمعاملات میں عورت ومردکی حیثیت برابر ہے،یعنی دونوں کے درمیان مساوات ہے،کسی طرح کاصنفی امتیازنہیں ہے،اسلام میںعورت کودینی،سماجی،معاشرتی،معاشی ہرطرح کے حقوق دئے گئے ہیں،بلکہ متعددپہلوایسے ہیں جہاں عورت کومرد پرفوقیت حاصل ہے۔
عورتوں کے جوحقوق حاصل ہیں ان کاتذکرہ تفصیلی تحریرکامتقاضی ہے،خلاصہ کے طورپر چندباتوں کاذکرکرنامفید ہوگا:
عبادات میں مردوعورت دونوں برابرہیں:من عمل صالحا من ذکراو انثی وہومومن فلنحینہ حیوۃ طیبۃ ولنجزینہم اجرہم باحسن ماکانوا یعملون ۔(سورہ نحل:۹۷)
ترجمہ:مردہویاعورت اگر مسلمان ہوتو جوبھی نیک عمل کرے گا ہم اس کی زندگی اچھی طرح بسرکرائیں گے،اور ہم ان کو اچھے کاموں کا اجرضرور عطافرمائیں گے۔
مولاناخالدسیف اللہ رحمانی صاحب نے اس آیت سے یہ نکتہ اخذکیاگیاہے کہ عورت کواپنی ذات اور اپنے مال میں خودمختاری حاصل ہے،جب تک کہ اس سے شریعت کا کوئی حکم نہ ٹوٹ جائے۔(آسان تفسیر قرآن مجید)
جان ومال،عزوآبروکاتحفظ ،ایک دوسرے کے جذبات کالحاظ میں مردعورت دونوں کویکساں درجہ حاصل ہے:
ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف ۔(سورہ بقرہ:۲۲۸)
اور جیسے عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں ایسے ہی مردوں پر عورتوں کے حقوق بھی ہیں۔
عورت کومعاشی جدوجہدکی آزادی حاصل ہے،وہ تجارت کرسکتی ہے،ملازمت کرسکتی ہے،ہبہ اور وصیت کرسکتی ہے۔
معاشرتی آزادی وخودمختارکایہ حال ہے کہ بالغ لڑکی کو نکاح کافیصلہ کرنے کااختیارہے،باپ بھی لڑکی کی مرضی پوچھے بغیراس کی شادی نہیں کرسکتا،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا تنکح الایم حتی تستامرولاتنکح البکرحتی تستاذن۔(صحیح البخاری)
مردکی طرح عورت بھی میراث کی حقدارہوتی ہے:
للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون وللنساء مماترک الوالدان والاقربون مماقل منہ او کثر نصیبامفروضا۔ (سورہ نساء:۷)
والدین اور قرابت داروں نے جوکچھ چھوڑاہے اس میں مردوں کابھی حصہ ہے اور والدین اور قرابت داروں کے متروکہ میں عورتوں کابھی حصہ ہے،چاہے وہ تھوڑاہویازیادہ،یہ مقررکیاہواہے۔
اسلام میں عورت کایہ مقام ہے کہ عورت کی تمام ذمہ داری مردکے سرہے،نابالغی کے زمانہ میں اس کی کفالت باپ کے ذمہ ہے،شادی کے بعد شوہرکے ذمہ ،شوہرکے انتقال کی صورت میں بچوں کے ذمہ ،اور بچے نہ ہوں توقریبی رشتہ داروں کے ذمہ ہے،عورت پرخوداپنی ذمہ داری بھی نہیں ہے،اس کے باوجودانہیں معاشی آزادی حاصل ہے۔
اسلام میں جہاں عورتوں کوہرشعبہ ہائے زندگی میں حقوق دئے گئے ہیں وہیں عورت کی فطرت کالحاظ کرتے ہوئے حجاب اور عفت وعصمت کے عنوان سے اسے تحفظ بھی فراہم کیاہے۔
پردے کے حدود دراصل عورت کی خصوصی حیثیت یعنی اضافی پروٹوکال ہے،جس پر عورت کوفخرکرناچاہئے۔
اسلام نے عورتوں کوآزدی اور خودمختاری عطاکرکے سماج میں ایک انقلاب برپاکردیا،جس کانتیجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مردصحابہ علوم سیکھنے کو فخرمحسوس کرتے تھے،حضرت شفابنت عدویہ کوبازارکے مسائل پراتنی مہارت رکھتی تھیں کہ حضرت عمرؓ نے انہیں بازارکانگران (انسپکٹر)بنایاتھا،فاطمہ الفہری نے جامعہ قرطبہ کی بنیاد ڈالی،تفسیر وحدیث اور دیگرعلوم کی شاندار خدمت کی،غرض مسلم خواتین نے علمی وسماجی میدان میں جوکرداراداکیاہے وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔
اسلام کے عطاکردہ حقوق کاموازنہ مغرب کے عطاکردہ حقوق یامتمدن معاشرہ میں عورت کوملنے والے حقوق سے کیاجائے تو ہرمنصف آدمی یہی کہے گاکہ اسلام میں عورتوں کوجس مقام تک پہونچایاہے اوراسلام جس طرح کامتوازن معاشرہ تیارکرتا ہے،اس کی نظیرنہیں مل سکتی۔
لیکن اسلام کی اس روشن تاریخ کے ساتھ یہ بھی ایک تلخ سچائی ہے کہ مسلم معاشرہ میں عورتوں کووہ حقوق نہیں ملے جوانہیں مذہب نے عطاکیاتھا،روایات کے نام پر یاعورتوں کے تحفظ کے نام پر انہیں وہ خودمختاری نہیں ملی جن کی وہ حقدارتھیں،اس طرح عورتوں کے ساتھ معاشرتی زندگی میں کچھ زیادتیاںبھی ہوئی ہی،اورآج بھی ہورہی ہیں،مگراس سے یہ نتیجہ اخذکرناصحیح نہیں ہوگاکہ ہرخاندان میں اسی طرح ہورہاہے،کیونکہ ہرجگہ ایساہوتاتومسلم خواتین کی تاریخ اتنی روشن نہیں ہوتی۔
عورتوں کوان کے حقوق سے محروم کرنے میں عورت کے حدودکی تعبیرمیں بیانیہ کابھی بڑادخل ہے،بعض اہل علم نے عورتوں کے تحفظ ،فتنہ کے اندیشوں کو بنیادبناکرعورتوں کی سرگرمیوں کواتنامحدودکردیاکہ ان تحریروں کے نتیجہ میں مسلم عورت کی جوتصویربنتی ہے وہ اسلام کے بنیادی اصول اور اسلام کی تاریخ سے کہیں میل نہیں کھاتی۔
عورت کااصل میدان نسل انسانی کی تربیت ہے،مگراسے شرعی حدودمیں رہتے ہوئے معاشی جدوجہد کی آزادی ہے، بالغ لڑکی کونکاح کے بارے میں اپنے فیصلے کااختیارہے،عورت کومیراث میں مردکی طرح حقداربنایاگیاہے،اس طرح کے متعدد مسائل ہیں جہاں شریعت میں واضح ہدایات موجود ہونے کے باجودعورتوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔
مذکورہ تفصیلات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلم عورت کوپہلے سے ہی خودمختاری حاصل ہے،انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جن کی وہ حقدارہیں،پھرمسلم عورتوں کوخودمختاری کاسبق کیوں پڑھایاجاتاہے،مسلم معاشرہ میں عورتوں کے حقوق کی دہائی کیوں دی جاتی ہے؟ایک مسلم ملک میں اس طرح کے پروگرام کامقصد کیاہے؟
اگر کانفرنس کا مقصد مغرب کے تصورآزدی کوپیش کرناہے،مذہب کے مقابلہ میں فیمینزم کورکھنااور اوراسے پرکشش انداز میں پیش کرناہے،تواس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہے،لیکن اگرمقصد عورت کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے، عالمی بیانیہ کاجواب دیناہے،سماجی وتعلیمی ترقی کافروغ ہے،عورت پرہونے مظالم مثلا گھریلوتشدد،جبری شادی،تعلیم سے محرومی اور وراثت سے محروم کواجاگرکرناہے،یعنی اسلامی فکراور اسلام کے اعتدال کوفروغ دیناہے،تواس کا استقبال ہوناچاہئے۔
عام طور پر اس طرح کی سرگرمیوں کے پس پردہ مسلم عورت کوآزادی اور خودمختاری کے نام پر مذہب سے بیزار کرنے کا مقصد کارفرماہوتاہے،تاکہ وہ بھی مذہب کے طوق کواتارپھینکے، اور مغرب کی طرح مشرق کی خواتین بھی دینی وسماجی بندھوںسے آزادہوکر اپنے وجودکوثابت کریں۔
مغرب عورت کی مطلق آزادی کاقائل اور داعی بلکہ علمبردارہے،اس آزادی کے نتائج سامنے ہیں،اس کے برخلاف اسلام عورت کوایک محدوددائرہ میں آزادی عطاکرتاہے،اس میں عورت کی عزت بھی ہے،اور اس کاوقاربھی ،ساتھ ہی عورت کے اصل میدان کی تعیین بھی ہے،اور اولین فرائض کی جانب توجہ بھی ۔
افسوس کہ بسااوقات بعض مسلم قلمکار بھی اس معاشرتی نظام کوپدرشاہی نظام سے تعبیرکرتی ہیںاوراسے عارسمجھتی ہیں، حالانکہ یہ کھلی حقیقت ہے کہ عورت کے شتربے مہاررہنے اور تنہازندگی کے سردوگرم کوجھیلنے سے بہترہے کہ وہ کسی کی ذمہ داری میں ہو،اورخاندان میں مرد کی مرکزیت ہو ، محدوددائرہ میں آزادی وخودمختاراس آزادی سے بدرجہ بہترہے جہاں اس کاامتیازی وصف کھوجائے اوروہ عام انسان کی طرح معاشی دوڑبھاگ کاحصہ بن جائے۔
وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے سازسے ہے زندگی کاسوزدروں